سلسلہ نمبر: 742 میراث سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ

Header Ads Widget

سلسلہ نمبر: 742 میراث سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ

 آج کی آچھی بات


بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 

​اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌​

صفر المصفر 26 , 1443 ھِجْــرِی

ستمبر 24, 2021 عِیسَوی

 اسوج 20,  2077 بکـــــرمی

بـــــروز سوموار  MONDAY   

اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح 


 سلسلہ نمبر: 742 

میراث سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ

 

عوام میں میراث سے متعلق متعدد غلط فہمیاں رائج ہیں، جن کی اصلاح نہ کرنے  کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور کئی پریشانیاں اور جھگڑے وجود پاجاتے ہیں۔ ذیل میں میراث سے متعلق عوام میں رائج چند غلطیوں اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔


میراث کا تعلق موت کے بعد سے ہے


میراث سے متعلق شریعت کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ میراث کاتعلق موت کے بعد سے ہوا کرتا ہے، اس لیے زندگی میں کسی شخص کے مال وجائیداد میں میراث کے احکام لاگو نہیں ہوتے،  اور نہ ہی وَرثہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس کی زندگی میں اپنی میراث کا مطالبہ کریں۔ اس اصول سے یہ بات بخوبی  معلوم ہوجاتی ہے  کہ  جب تک والدین حیات ہوں تو ان کے مال میں اولاد یا دیگر ورثہ میں سے کسی کا بھی میراث کے طور پر حصہ نہیں ہوا کرتا، اس لیے آجکل جو اولاد اپنے والدین سے  ان کی زندگی ہی میں میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے مال وجائیداد میں ہمارا  بھی حصہ ہے، یا وہ جبرًا اپنے والدین سے اپنی میراث کے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں تو واضح رہے کہ یہ سراسر غلطی ہے جو کہ شریعت کے خلاف ہے۔آجکل یہ غلط فہمی بہت زیادہ عام ہوگئی ہے، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ شریعت کے مذکورہ حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اس غلطی کی اصلاح کرے۔ (فتاویٰ محمودیہ: 20/ 237 تخریج شدہ از فاروقیہ)


 تنبیہ 

مذکورہ تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ایسے قوانین بنانا بھی ناجائز اور غیر شرعی ہے جن کی رو سے بیٹی کے لیے والدین کی حیات ہی میں ان سے اپنے حقِ میراث کا مطالبہ ضروری قرار دیا جائے کہ بیٹی کو والدین کے انتقال کے بعد اپنا حقِ میراث اُس وقت ملے گا جب اس نے والدین کی زندگی میں اُن سے اپنے حقِ میراث کا مطالبہ کیا ہو، بصورتِ دیگر بیٹی کو میراث کا حق نہیں ملے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات شریعت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ میراث کے احکام سے ناواقفیت کی بھی دلیل ہے۔ اس لیے ایسے نقصان دہ، ظالمانہ  اور غیر شرعی عدالتی قوانین بنانا بھی ہرگز درست نہیں۔


مورِث کی زندگی میں میراث سے دستبرداری معتبر نہیں

 

اگر مورِث کی زندگی میں اس کا کوئی وارث اپنی میراث کا حصہ لینے سے انکار کردے کہ میں مورِث کی موت کے بعد اپنا حصہ وصول نہیں کروں گا اور نہ ہی اس کا مطالبہ کروں گا، تو ایسی صورت میں مورث کے مال سے اُس وارث کا حقِ میراث ختم اور ساقط نہیں ہوتا، بلکہ  مورث کے انتقال کے بعد اس کو میراث میں سے حصہ ضرور ملے گا، کیوں کہ میراث کا تعلق مورث کی موت کے بعد سے ہوا کرتا ہے اور مورث کی زندگی میں اس کے مال میں میراث کے احکام جاری ہی نہیں ہوتے، اسی کے ساتھ ساتھ میراث کا مال تو ابھی تک اُس وارث کی ملکیت میں آیا بھی نہیں ہے بلکہ یہ حق اُس کے لیے اب تک ثابت ہی نہیں ہوا ہے،تو ان وجوہات کی وجہ سے اُس وارث کے لیے اپنے مورث کی زندگی میں اپنے حقِ میراث سے دستبردار ہونا کیسے درست ہوسکتا ہے؟؟ حاصل یہ کہ مورث کے زندگی میں کسی وارث کا اپنے حقِ میراث سے دستبردار ہونا بھی معتبر نہیں۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ آجکل بعض والدین جو اپنے کسی بیٹے یا بیٹی سے یہ بات لکھوا لیتے ہیں کہ وہ اپنے حقِ میراث سے دستبردار ہوجائیں اور وہ اس کا مطالبہ نہیں کریں گے، تو یہ بات شریعت کی نظر میں بے معنیٰ اور غیر معتبر ہے، بلکہ اس دستبرداری کے باوجود بھی جب والدین کا انتقال ہوجائے اور وہ میراث چھوڑ جائیں تو اس میں دیگر ورثہ کی طرح اس دستبردار ہونے والے بیٹے اور بیٹی کا بھی حصہ ہوگا جو کہ انھیں ضرور ملے گا، اس لیے دیگر وارثوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ان کو ان کے حق سے محروم کردیں۔  

(فتاویٰ محمودیہ: 20/ 278 تخریج شدہ از فاروقیہ)


حقِ میراث نہ لینے سے باطل نہیں ہوتا


مورث کے انتقال کے بعد اگر کسی وارث نے اس کی میراث میں سے اپنا حصہ وصول نہیں کیا، تو صرف وصول نہ کرنے سے اس کا حق باطل اور ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ وہ جب بھی چاہے اپنے حقِ میراث کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اسے اس کا مقررہ حق ضرور ملے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ: 20/ 238 تخریج شدہ از فاروقیہ)


 فائدہ

مذکورہ باتوں کی مزید تفصیل کے لیے اسی سلسلہ اصلاحِ اغلاط کا سلسلہ نمبر 16: ’’زندگی میں تقسیمِ جائیداد سے متعلق بنیادی احکام‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔


فقہی عبارات


 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع

لِأَنَّ الْإِرْثَ إنَّمَا يَجْرِي في الْمَتْرُوكِ من مِلْكٍ أو حَقٍّ لِلْمُوَرَّثِ على ما قال عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «من تَرَكَ مَالًا أو حَقًّا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ».

 الموسوعة الفقهية الكويتية

وَذَهَبَ الْحَنَفِيَّةُ إِلَى أَنَّ التَّرِكَةَ: هِيَ مَا يَتْرُكُهُ الْمَيِّتُ مِنَ الأَمْوَال صَافِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنِهِ. (تَرِكَةٌ)

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق

وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ: هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ، قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ: الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ. وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ: الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ. (كِتَابُ الْفَرَائِضِ)

 رد المحتار على الدر المختار

وَأَرْكَانُهُ: ثَلَاثَةٌ وَارِثٌ وَمُورَثٌ وَمَوْرُوثٌ. وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، أَوْ تَقْدِيرًا كَجَنِينٍ فِيهِ غُرَّةٌ، وَوُجُودُ وَارِثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيًّا حَقِيقَةً أَوْ تَقْدِيرًا كَالْحَمْلِ، وَالْعِلْمِ بِجِهَةِ إرْثِهِ. (كِتَابُ الْفَرَائِضِ)

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر

لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذِ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ. (الْفَنُّ الثَّالِثُ مِنَ الْأَشْبَاهِ وَالنَّظَائِرِ، وَهُوَ فَنُّ الْجَمْعِ وَالْفَرْقِ: مَا يَقْبَلُ الْإِسْقَاطَ مِنَ الْحُقُوقِ وَمَا لَا يَقْبَلُهُ)

 قرۃ عين الأخيار لتكملة رد المحتار

الإرث جبري لَا يسْقط بالاسقاط. (كتاب الدَّعْوَى: بَاب التَّحَالُف)


۔۔۔مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ

فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

 صفر المظفّر 1443,19ھ/ 27 ستمبر 2021

……………………………………………


صدقہ جاریہ کمائیں


اپنے دوستوں کو آج کی آچھی بات ویب سائٹ کو روز دیکھیں اور اپنے دوستوں کو بھی لنک سینڈ کریں

اس گروپ میں اسلامی تحریریں, قرآن پاک کا ترجمہ, احادیث, قصص الانبياء, اسلامی واقعات اور صحابہ کرام کے قصے شئیر کئے جاتے ہیں ,

گروپ جوائن کریں اور صراط مستقیم پر چل کر جنت کے حقدار بن جائیں

ان شاء اللہ 

روزانہ ایک حدیث مبارک اور قرآن پاک کی آیات کا اردو ترجمہ سبق آموز تحریر 

قصص الانبياء, اسلامی واقعات اور صحابہ کرام کے قصے حاصل کرنے کے لیے ھمارا گروپ جوائن کریں تاکے ھم دین سیکھ سکیں

آئیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کریں

دعا 

یا اللہ یا رحیم یا رحمان یا کریم تمام بنی نوع انسان جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں خصوصا میری والدہ محترمہ ان سب کی آخرت آسان فرما ضغیرہ و کبیر ہ گناہوں کو معاف فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور درجات بلند فرما انکی قبروں کو منور اور جنت کا باغ بنا دے قبر کی سختیوں اور تکلیفوں کو دور فرما 

ان سب کی اگلی منزلیں آسان فرما جہنم کے عذاب اور جہنم کی آگ سے بچا 

اور ہمیں صحیح دین پر چلنے والا اپنا نیک عاجزی بندہ بنا دے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما

آمین یا رب الالعمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے