سلسلہ نمبر: 741 لے پالک اولاد کو میراث ملنے کا حکم

Header Ads Widget

سلسلہ نمبر: 741 لے پالک اولاد کو میراث ملنے کا حکم

 آج کی آچھی بات


بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 

​اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌​

صفر المصفر 27 , 1443 ھِجْــرِی

ستمبر 25, 2021 عِیسَوی

اسوج 21,  2077 بکـــــرمی

بـــــروز منگل  TUESDAY   

اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اِصلاح 


 سلسلہ نمبر: 741

لے پالک اولاد کو میراث ملنے کا حکم


بعض والدین اولاد نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے کسی دوسرے کے بیٹے یا بیٹی کو گود لے لیتے ہیں، ایسی اولاد کو لے پالک بھی کہا جاتا ہے۔ پھر یہی گود لینے والے والدین اس لے پالک بچے یا بچی کی پرورش کرلیتے ہیں۔ پھر جب والدین میں سے کسی ایک کا یا دونوں کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس لے پالک اولاد کی میراث کا مسئلہ درپیش آجاتا ہے کہ انھیں میراث میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ ذیل میں ایسے لے پالک بیٹے یا بیٹی کو میراث ملنے کا حکم ذکر کیا جاتا ہے۔


لے پالک اولاد کو میراث ملنے کا حکم

 

شریعت کی رو سے میراث کا تعلق نسبی اولاد کے ساتھ ہے کہ والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کے انتقال کے بعد ان کی میراث صرف اُن کے نسبی اولاد کو ملتی ہے، جبکہ ان کے علاوہ ان کی منہ بولی اور لے پالک اولاد کو ان کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا کیوں کہ شریعت کی رو سے وہ وارث نہیں بن سکتی، یا یوں کہیے کہ میراث کے مستحق بننے کے لیے جو اسباب ہیں اُن میں لے پالک اولاد داخل نہیں۔ اس لیے منہ بولے اور لے پالک بیٹے یا بیٹی کو اپنے ایسے غیر نسبی والدین کی میراث میں سے حصہ طلب کرنے کا بھی کوئی حق حاصل نہیں۔

البتہ اس ضمن میں چند باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ لے پالک اولاد کو مال ملنے کی چند صورتیں معلوم ہوسکیں

1-

 والدین اپنی زندگی میں اپنی لے پالک اولاد کو جو مال مالکانہ طور پر قبضہ میں دے دیں تو وہ لے پالک اولاد اس مال کی مالک بن جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منہ بولی اور لے پالک اولاد کو میراث میں سے تو حصہ نہیں ملتا، البتہ والدین اگر اپنی زندگی ہی میں ان کو کسی مال کا مالک بناکر قبضہ میں دے دیں تو یہ درست ہے کیوں کہ یہ والدین کی طرف سے ہدیہ ہوتا ہے نہ کہ میراث۔

2-

 والدین کا اپنی منہ بولی اور لے پاک اولاد کو مال سے نوازنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کے لیے اپنے مال کے ایک تہائی حصے یا اس سے کم کی وصیت کرلیں۔ چوں کہ یہ لے پالک اولاد وارث نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے وصیت کرنا درست ہے۔ البتہ لے پالک اولاد کے لیے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا درست نہیں، لیکن اگر والدین نے ان کے لیے ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کی ہو اور ان والدین کے عاقل بالغ ورثہ اپنی خوشی سے اپنے مال یا حصے میں سے ان لے پالک اولاد کو ایک تہائی سے زیادہ مال دینا چاہیں تو یہ جائز ہے۔ 

3-

 یہ بات تو واضح ہوچکی کہ لے پالک اور منہ بولی اولاد وارث نہیں بن سکتی، لیکن والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کے انتقال کے بعد ان کے عاقل بالغ ورثہ اپنی خوشی سے اپنے مال یا اپنے حصے میں سے ان لے پالک اولاد کو بھی حصہ دینا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے۔


 الفتاوى الهندية


وَيُسْتَحَقُّ الْإِرْثُ بِإِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثٍ: بِالنَّسَبِ وهو الْقَرَابَةُ، وَالسَّبَبِ وهو الزَّوْجِيَّةُ، وَالْوَلَاءِ. 

(كِتَابُ الْفَرَائِضِ)


۔۔۔مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ

فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

صفر المظفّر 1443,18ھ/ 26 ستمبر2021

03362579499

……………………………………………


صدقہ جاریہ کمائیں


اپنے دوستوں کو آج کی آچھی بات ویب سائٹ کو روز دیکھیں اور اپنے دوستوں کو بھی لنک سینڈ کریں

اس گروپ میں اسلامی تحریریں, قرآن پاک کا ترجمہ, احادیث, قصص الانبياء, اسلامی واقعات اور صحابہ کرام کے قصے شئیر کئے جاتے ہیں ,

گروپ جوائن کریں اور صراط مستقیم پر چل کر جنت کے حقدار بن جائیں

ان شاء اللہ 

روزانہ ایک حدیث مبارک اور قرآن پاک کی آیات کا اردو ترجمہ سبق آموز تحریر 

قصص الانبياء, اسلامی واقعات اور صحابہ کرام کے قصے حاصل کرنے کے لیے ھمارا گروپ جوائن کریں تاکے ھم دین سیکھ سکیں

آئیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کریں

دعا 

یا اللہ یا رحیم یا رحمان یا کریم تمام بنی نوع انسان جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں خصوصا میری والدہ محترمہ ان سب کی آخرت آسان فرما ضغیرہ و کبیر ہ گناہوں کو معاف فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور درجات بلند فرما انکی قبروں کو منور اور جنت کا باغ بنا دے قبر کی سختیوں اور تکلیفوں کو دور فرما 

ان سب کی اگلی منزلیں آسان فرما جہنم کے عذاب اور جہنم کی آگ سے بچا 

اور ہمیں صحیح دین پر چلنے والا اپنا نیک عاجزی بندہ بنا دے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما

آمین یا رب الالعمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے