سلسلہ نمبر: 49 حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا حقیقی معیار

Header Ads Widget

سلسلہ نمبر: 49 حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا حقیقی معیار

   آج کی آچھی بات


بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 

​اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌​

ربیع الاول 08  , 1443 ھِجْــرِی

 اکتوبر 15, 2021 عِیسَوی

اسوج 30,  2077 بکـــــرمی

بـــــروز جمعہ   FRIDAY    

اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اصلاح

سلسلہ نمبر: 49

حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا حقیقی معیار

(تصحیح ونظر ثانی شدہ)


حضور اقدس ﷺ کی محبت اِیمان کا اہم جُز


یہ بات روزِ روشن سے بھی زیادہ واضح ہے کہ حضور اقدس حبیبِ خدا ﷺ کی محبت ایمان کا نہایت ہی اہم جُز ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مؤمن کے دل میں حضور اقدس ﷺ کی محبت اپنی جان، مال، اولاد، والدین بلکہ پوری کائنات سے بھی زیادہ ہونی چاہیے، تب جاکے ایمان کامل ہوسکتا ہے، جیسا کہ صحیح  

:بخاری میں حدیث ہے کہ

حدیث نمبر- 15

 عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ».


حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا معیار


 یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا معیار اور پیمانہ کیا ہے تاکہ ہر اُمّتی اپنی محبت اور عشق کے درست اور معتبر ہونے کا اندازہ لگاسکے کہ وہ جس عشقِ رسالت کا دعویدار ہے وہ واقعتًا عشق ومحبت ہے بھی یا نہیں؟ اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک معتبر ہے بھی یا نہیں؟ اس معیار اور پیمانے کی ضرورت اس لیے ہے کہ  آجکل ہر ایک حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا دعویدار ہے اور اسی بنیاد پر عشق ومحبت کے نام پر متعدد نت نئے نمونے، پیمانے اور اعمال دیکھنے کو ملتے ہیں، جیسے کہ ماہِ ربیع الاوّل میں عشقِ رسالت کے نام پر بہت سے کام کیے جاتے ہیں اور ان کو عشقِ رسالت کا معیار قرار دیاجاتا ہے، تو اس کے لیے کوئی پیمانہ اور معیار ہونا چاہیے تاکہ ہر ایک اپنے عشق ومحبت کو اس پر پرکھ سکے اور اگر اپنی غلطی نظر آئے تو اس کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کی طرف توجہ ہوسکے۔ 

اس لیے ذیل میں عشقِ رسالت کے اسی معیار اور پیمانے کی وضاحت کرتے ہیں۔


عشقِ رسالت کا معیار: سنّت اور صحابہ کرام


قرآن وسنت سے واقف شخص اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کا پیمانہ اور معیار سنت اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم ہیں کہ وہی عمل معتبر ہوگا جو سنت اور صحابہ  کرام کے مطابق ہو، اورعشق ومحبت کے نام پر صرف اسی عمل اور طریقے کو اپنایا جاسکتا ہے جو سنت اور صحابہ کرام کے مطابق ہو، لیکن جو عمل سنت اور صحابہ کرام کے مطابق نہ ہو اسے عشقِ رسالت کے نام پر نہیں اپنایا جاسکتا اور نہ ہی اسے دین قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک واضح معیار ہے جس پر ہر مسلمان اپنے عشقِ رسالت کی اداؤں کو جانچ سکتا ہے۔ اور یہ معیار خود حضور اقدس ﷺ نے مقرر فرمایا ہے، چنانچہ سنن الترمذی کی حدیث ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’بنی اسرائیل 72 فرقوں میں بٹے تھے، جبکہ میری  امت میں 73 فرقے بنیں گے، ان میں ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایک کامیاب اور برحق جماعت کون سی ہوگی؟ تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ’’مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي‘‘ یعنی جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگی۔‘‘

حدیث نمبر- 2641-

 عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بني إسرائيل حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بني إسرائيل تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً»، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي».

اس حدیث میں حق جماعت کی جو علامت بیان فرمائی گئی ہے وہ یہی ہے کہ جو سنت اور صحابہ کرام کے طریقے پر ہو، یہ علامت دین کے ہر معاملے میں ایک واضح پیمانہ ہے جس کی بنیاد پر ہر ایک انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے نظریات اور اعمال جانچ سکتا ہے۔ یقینًا یہ معیار اپنانے سے بہت سے مسائل اور مشکلات حل ہوسکتی ہیں اور بہت سے پریشانیوں، بدعات اور خود ساختہ اعمال اور نظریات سے نجات مل سکتی ہے


حضراتِ صحابہ کرام عشقِ رسالت کا بہترین اور کامل نمونہ ہیں


سنت تو ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ اور معیار ہے ہی ،یہی وجہ ہے کہ جب دین یا عشقِ رسالت کے نام پر کوئی ایسی بات ایجاد کی جائے جو سنت سے ثابت نہ ہوتو گویا کہ سنت ہاتھ سے چھوٹ گئی اور بدعت ہاتھ آگئی، جو کہ بہت بڑا نقصان ہے۔ جہاں تک حضرات صحابہ کی بات ہے تو وہ سنت کی حقیقت سے خوب واقف تھے، سنت پر مر مٹنے والے تھے کہ اس سے ذرہ برابر بھی انحراف کو جرم سمجھتے تھے، اور عشقِ رسالت کا کامل اور بہترین نمونہ بھی تھے، اس لیےان کوبھی معیار قرار دیا گیا۔ اس سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام جب عشقِ رسالت کا بہترین اور کامل نمونہ تھے تو انھوں نے جو کام نہیں اپنائے تو انھیں آج دین کے نام پر ہرگز نہیں اپنایا جاسکتا، اسی طرح عشقِ رسالت کے تمام تر اعمال اور معیارات ان میں موجود تھے، اس لیے جو عمل انھوں نے عشقِ رسالت کے نام پر نہیں اپنایا آج اسے عشقِ رسالت کے نام پر ہرگز نہیں اپنایا جاسکتا، کیوں کہ حضرات صحابہ زیادہ مستحق تھے اس بات کے کہ وہ عشقِ رسالت کے نام پر نت نئے اعمال کی بنیاد رکھتےحالاں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ انھوں نےدین میں نت نئے طریقے ایجاد کرنے کو جرم سمجھا۔


سنت اور صحابہ کرام سے وابستگی سے متعلق چند روایات


سنت اور صحابہ کرام کے معیار کو مضبوطی سے تھامنے کی اشد ضرورت ہے۔ ذیل میں سنت اور صحابہ سے متعلق چند روایات ذکر کی جاتی ہیں جن سے یہ بات بخوبی واضح 

:ہوسکے گی

1-

 سنن الترمذی میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں بھی کہتا ہوں کہ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، لیکن اس طرح ہمیں حضور اقدس ﷺ نے نہیں سکھایا بلکہ ہمیں یوں سکھایا ہے کہ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلىٰ كُلِّ حَالٍ

- حدیث نمبر -2738

 عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ، عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ: « اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلىٰ كُلِّ حَالٍ». (بَابُ مَا يَقُولُ العَاطِسُ إِذَا عَطَسَ)

غور کیجیے کہ چھینکنے والے شخص نے چھینک کے بعد الحمد للہ تو کہا لیکن ساتھ میں حضور اقدس ﷺ پر سلام بھی بھیج دیا، حالاں کہ سب جانتے ہیں کہ چھینک کے بعد کی دعا میں الحمد للہ کے بعد درود وسلام پڑھنا سنت سے ثابت نہیں، اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے عاشقِ سنت صحابی نے فورًا تنبیہ فرمائی کہ میں بھی اس کا قائل ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بھی ہونی چاہیے اور حضور اقدس ﷺ پر درود وسلام بھی پڑھنا چاہیے یعنی کہ درود وسلام کی اہمیت وفضیلت کا میں بھی قائل ہوں لیکن یہ اس کا موقع نہیں، اس لیے چھینک کے بعد درود وسلام پڑھنا درست نہیں کیوں کہ ہمیں حضور اقدس ﷺ نے چھینک کے بعد الحمدللہ ہی سکھایا ہے جس میں درود وسلام کا ذکر نہیں۔

 اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ چھینک کے بعد کی دعا میں الحمدللہ کے  بعد درود وسلام سنت سے ثابت نہ تھا اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے پسند نہیں فرمایا اور تنبیہ فرمائی، گویا کہ درود شریف پڑھنا بہت بڑا عمل ہے لیکن اس کے لیے ایسا موقع اور طریقہ اختیار کرنا جو سنت اور صحابہ سے ثابت نہ ہو اسے بدعت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ 

اس سے اذان کے قبل پڑھے جانے والے مروّجہ درود وسلام کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے۔

2-

 امام سعید بن المسیب تابعی رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ عصر کے بعد دو رکعت نفل ادا کررہا تھا (تو امام سعید بن المسیب نے انھیں اس سے منع فرمایا) تو اس شخص نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے نماز ادا کرنے پر بھی عذاب دے گا؟ تو امام سعید بن المسیب نے جواب میں فرمایا کہ نماز پر تو عذاب نہیں دے گا لیکن سنت کی خلاف ورزی پر ضرور عذاب دے گا۔

 سنن الدارمي:470-

 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي رَبَاحٍ -شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ- قَالَ: رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ, يُكَبِّرُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَيُعَذِّبُنِي اللهُ عَلَى الصَّلَاةِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ. 

(بابُ مَا يُتَّقٰى مِنْ تَفْسِيرِ حَدِيثِ النَّبِيِّ ﷺ)

3-

 حضرت امام شاطبی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’جو عبادت حضرات صحابہ کرام نے نہیں کی وہ عبادت نہ کرو، کیوں کہ پہلے لوگوں نے پچھلوں کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی (جس کویہ پورا کریں)، خدا تعالیٰ سے ڈرو اور پہلے لوگوں کے طریقے کو اختیار کرو۔ اسی مضمون کی روایت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ (جواہر الفقہ)

وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُلُّ عِبَادَةٍ لَمْ يَتَعَبَّدْهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَلَا تعبَّدوها؛ فَإِنَّ الْأَوَّلَ لَمْ يَدَعْ لِلْآخِرِ مَقَالًا، فَاتَّقُوا اللهَ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ، وَخُذُوا بِطَرِيقِ مَنْ كَانَ قبلكم. ونحوه لابن مسعود أيضًا. (الباب الثامن في الفرق بين البدع والمصالح المرسلة)

 البدع لابن وضاح القرطبي:10-

 عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: اتَّقُوا اللهَ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ، خُذُوا طَرِيقَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَاللهِ لَئِنِ اسْتَقَمْتُمْ لَقَدْ سُبِقْتُمْ سَبْقًا بَعِيدًا، وَلَئِنْ تَرَكْتُمُوهُ يَمِينًا وَشِمَالًا لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا. (بَابُ مَا يَكُونُ بِدْعَةً)

4-

 حضرت امام شاطبی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: تم ہماری پیروی کرو اور دین میں نئی باتیں ایجاد نہ کرو، یہ تمہارے لیے کافی ہے۔

وَخَرَّجَ [ابْنِ وَضَّاحٍ] أَيْضًا عَنْ عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: اتَّبِعُوا آثَارَنَا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ.

 البدع لابن وضاح القرطبي11 - 

حَدَّثَنَا أَسَدٌ قَالَ: أخبرنا أَبُو هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اتَّبِعُوا آثَارَنَا، وَلَا تَبْتَدِعُوا، فَقَدْ كُفِيتُمْ. 

(بَابُ مَا يَكُونُ بِدْعَةً)

 مجمع الزوائد:853-

 عن عبد الله بن مسعود قال: اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم.

رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح.


دین اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں کب برقرار رہ سکتا ہے؟


دین اپنی حقیقی شکل وصورت میں تبھی برقرار رہ سکتا ہے جب اس کے لیے سنت اور صحابہ کو معیار قرار دیا جائے کیوں کہ اگر ہر ایک اپنی طرف سے دین کے نام پر کوئی عمل ایجاد کرے گا یا اپنے کسی خود ساختہ عمل کو عشقِ رسالت کا معیار قرار دے گا تو دین کا حلیہ ہی مسخ ہوجائے گا اور دین اپنی اصلی صورت میں باقی نہیں رہ پائے گا، اور نہ ہی بعد والوں کو حقیقی دین پہنچ سکے گا، حالاں کہ خود ساختہ اعمال اور پیمانوں کا تو نام دین نہیں۔ اس لیے دین اور عشقِ رسالت کے معاملے میں سنت اور صحابہ کرام کو معیار قرار دینے کی ایک بڑی ضرورت یہ بھی ہے۔


ماہِ ربیع الاوّل اور مروّجہ بدعات


ماقبل کی تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ آجکل ماہِ ربیع الاوّل میں حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق ومحبت کے نام پر جو نت نئے طریقے رائج ہیں جیسے: حضور اقدس ﷺ کے ذکر مبارک کے لیے ماہ ربیع الاوّل کو خاص کرنا، حضور اقدس ﷺ کی محبت کے نام پر یومِ ولادت یا میلاد منانا، ماہ ربیع الاوّل اورخصوصًا اس کی 12 تاریخ کو حضور اقدس ﷺ کی آمد یا میلاد کی خوشی میں جلسے جلوس منعقد کرنا، اس کو عید قرار دے کر عید جیسے اعمال سرانجام دینا، چراغاں کرنا، حضور اقدس ﷺ کی تاریخِ ولادت کو صبح صادق کے وقت آمدِ مبارک کی خوشی میں قیام کرنا، یا میلادُ النبی ﷺ کی نسبت سے دیگر امور سرانجام دینا شریعت کی نظر میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟؟ کیا یہ کام حضور اقدس ﷺ، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، حضرات تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ سے ثابت ہیں؟ اگر ثابت ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر تو کسی مسلمان کے لیے اس میں تردُّد کی گنجائش نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کے 23 سالہ عہدِ نبوت میں ربیع الاوّل میں میلاد کے نام پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، پھر تقریبًا 30 سال خلافتِ راشدہ کا زمانہ رہا، پھر تقریبًا دو سو سال تک خیر القرون کا زمانہ بنتا ہے، یہ پورا عرصہ ماہِ ربیع االاوّل میں جشنِ میلاد سے خالی نظر آتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ انھوں نے عشق کے نام پر یہ جشن نہیں منایا؟ اور اس کے تمام تر اسباب موجود ہونے کے باوجود بھی انھوں نے یہ عید ایجاد نہیں کی، تو آج یہ سب کچھ کیسے درست ہوسکتا ہے؟؟ آج یہ عشق کے نام پر کیسے اپنایا جاسکتا ہے؟؟ آج یہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ عشق کا معیار کیسے بن سکتا ہے؟؟ اس تمام صورتحال سے عید میلاد کا بدعت ہونا بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔


خلاصہ


 ماقبل کی تمام تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت اور عشق وہی معتبر ہے جو سنت اور صحابہ کرام کے طریقے کے مطابق ہو، لیکن جو طریقہ اور عمل اس کے خلاف ہو تو وہ اللہ کے ہاں ہرگز معتبر نہیں اگرچہ اس کو عشقِ رسالت کے نام پر ایجاد کیا جائے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذریعہ بنے گا۔

 

۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ

فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

 ربیع الاول1441,06,ھ/ 4 نومبر 2019

03362579499

………………………………............



صدقہ جاریہ کمائیں



اپنے دوستوں کو آج کی آچھی بات ویب سائٹ کو روز دیکھیں اور اپنے دوستوں کو بھی لنک سینڈ کریں

اس گروپ میں اسلامی تحریریں, قرآن پاک کا ترجمہ, احادیث, قصص الانبياء, اسلامی واقعات اور صحابہ کرام کے قصے شئیر کئے جاتے ہیں ,

گروپ جوائن کریں اور صراط مستقیم پر چل کر جنت کے حقدار بن جائیں

ان شاء اللہ 

روزانہ ایک حدیث مبارک اور قرآن پاک کی آیات کا اردو ترجمہ سبق آموز تحریر 

قصص الانبياء, اسلامی واقعات اورصحابہ کرام کے قصے حاصل

کرنے کے لیے ھمارا گروپ جوائن کریں تاکے ھم دین سیکھ سکیں

آئیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کریں

"الله کی عطاؤ ں پر "الحمدالله"

اور اپنی خطاؤں"پر استغفرالله کہنا,

الله كو بہت پسند ھے

 الله آپکو"تاحیات" تندرست، ایمان کےساتھ سلامت اور

"شاد وآباد"رکهے"


دعا 


یا اللہ یا رحیم یا رحمان یا کریم تمام بنی نوع انسان جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں خصوصا میری والدہ محترمہ ان سب کی آخرت آسان فرما ضغیرہ و کبیر ہ گناہوں کو معاف فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور درجات بلند فرما انکی قبروں کو منور اور جنت کا باغ بنا دے قبر کی سختیوں اور تکلیفوں کو دور فرما 

ان سب کی اگلی منزلیں آسان فرما جہنم کے عذاب اور جہنم کی آگ سے بچا اور ہمیں صحیح دین پر چلنے والا اپنا نیک عاجزی بندہ بنا دے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما...


آمین یا رب الالعمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے